Search This Blog

HALAQAT AL TARBIYYAH حلقات التربیۃ EPISODE 1 (OFFICIAL YOUTUBE VIDEO LINK)

HALAQAT AL TARBIYYAH

حلقات التربیۃ
LECTURE 1

FOR AUDIO DOWNLOAD
صحیح البخاری سے قبل حدیث نبوی کی حفاظت و تدوین
(صحیح بخاری سے پہلے حدیث کی 500 سے زائد کتب اور صحائف موجود تھے)
حلقات التربیۃ : "صحیح البخاری" و "احیاء علوم الدین"
( اصلاح احوال اور آداب زندگی لیکچر: 1)

LECTURE CONTENT
 
لیکچر1
 موضوع 
''«صحيح البخاري» و«إحياء علوم الدين»
(اِصلاحِ اَحوال اور آدابِ زندگی)''

 تحریر: حفیظ اللّه جاوید
بسم اللّه الرحمن الرحیم 
نحمد و نصلی و نسلم علی سیدنا ومولانا محمد  رسولہ النبی الامین المکین الحمید   الکریم الرووف الرحیم  اما بعد بسم اللّه الرحمن الرحیم 
معزز سامعین و ناظریں ، خواتین و حضرات، اور عزیز طلبہ وطلبات  اللّه رب العزت کی توفیق سے ہم ماہ رمضان کے ان سعادت والے ایام میں ایک سلسلہ درس شروع کر رہے ہیں جو الصحیح البخاری اور امام غزالی کی احیاء العلوم الدین  پر مشتمل ہے یہ سلسلہ حلقات تربیت کے نام سے موسوم ہوگا   ان حلقات التربیہ میں جو درس کا ٹیکسٹ ہیے وہ ہوگا صحیح البخاری ،جن موضوعات کو منتخب  کر رہے ہوں گے  اس کی توضیع اور تشریح کے لئے احیاء العلوم الدین کو شامل رکھیں گے ۔  دروس کا فوکس اس مرتبہ  علمی، فقہی اعتقادی اس نوعیت کے جو  دقیق اور مشکل موضوعات ہیں یا مسائل ہیں اس سلسلہ درس میں انکو شامل نہیں کریں گے۔گفتگو مشکل نہیں ہوگی  
فوکس تربیت پر ہو گا ۔اصلاح احوال پر ہو گا،  آداب زندگی پر ہو گا ۔جس سے ہماری روزمرہ کی زندگی زہنی اور فکری اعتبار سے بھی ایمانی روحانی اور عملی اعتبار سے اور اخلاقی اعتبار سے اور کہیں ضرورت ہو گی تو نظریات اعتبار سے سنور سکے۔
 زندگی کے مختلف گوشوں کی اصلاح مقصود ہے تاکہ ہماری عملی زندگی میں یہ دروس اور حلقات براہ راست کام آسکیں
اس کے لئے انتخاب صحیح بخاری کے ابواب کا اس میں چناؤ کریں گے جو جو احادیث ڈائریکٹلی ان موضوعات  سے  بحث کرتی ہیں ان پر درس ہو گا ۔
 آج کی ابتدا صحیح بخاری کے تعارف سے ہو گی۔ 
اس کے تعارف کا ایک انداز علمی اور فنی ہے جو صرف علماء کرام مدرسین،  محقیقین اور دینی طلباء خاص طور پر علم حدیث کے ان کی دلچسپی کا باعث ہیں۔
ان موضوعات پر مشتمل تعارف 
وہ اس گفتگو کا حصہ نہیں بناوں گا ۔ان موضوعات پر میری کتب سے بھی مواد مل جائے گا اگر  آپ پڑھنا جاہیں 
میرے کئی دروس اور خطابات جن کے اندر امام بخاری اور صحیح بخاری کی نسبت علمی فنی بحثیں جو اساتذہ،  محققین،  مدرسین کی دلچسپی کا باعث بنے وہ موجود ہے
 عربی میں جامعہ الازہر میں میرا بڑا مبسوط اور طویل خطاب ہے  
عنوان اس کا حدیث الضعیف ہے ۔مگر اس میں میں نے تفصیل سے گفتگو امام بخاری کے منہج پر اور صحیح بخاری پر کی ہے ۔
پھر میری اپنی کتاب میں مواد مل جاتا ہے، وہ عربی میں ہے لیکن انگلش ٹرانسمیشن کے ساتھ طبع ہوئی ہے ۔البیان الصریح  فی الحدیث الصریح۔
وہ اساتذہ علم حدیث کا زوق رکھنے والوں کے لئے ریفر کر رہا ہوں ۔
 ایک کتاب ہے قول اللطیف فی الحدیث الضعیف یہ بھی عربی میں لکھی ہے مگر اس کی بھی انگلش ٹراسلیشن آ جائے گی۔
تھوڑے عرصے اس کے اردو ترجمے بھی دستیاب ہو جائیں گے۔
ایک اور کتاب الاکتمال فی نشئتے علم الحدیث فی طبقات الرجال ۔یہ علم الحدیث کے ارتقاء پر ہے یہ بھی عربی میں ہے اس کے انگلش اور اردو میں تراجم دستیاب ہو جائیں گے۔
اس میں امام بخاری اور ان کےکام پر چیپٹر مل جائیں گے ۔
 پھر میرے دو درسات  میں علمی اور فنی بحثیں مل جائیں گی 
آج سے کئی سال پہلے برمنگھم میں دورہ صحیح البخاری کے عنوان سے دراسات ہوئے تھے ۔
 پھر دورہ صحیح مسلم ہوئے ہیں اس میں بھی بڑی تفصیلی علمی بحثیں موجود ہیں 
تین سال قبل لاھور کی جامع المنہاج میں ہماری منہاج القرآن علماء کونسل نے انتظام کیا تھا 
جس میں  چار سے پانج ہزار علماء کرام تین دن کے لئے شریک ہوئے تھے ۔ان کا عنوان تھا 
درسات علوم الحدیث 
اس میں بڑی تفصیل کے ساتھ امام بخاری اور آپ کی صحیح بخاری پر اور امام بخاری کے علم حدیث میں تخریج کے منہج پر 
علمی اور فنی ابحاث موجود ہیں ۔
 یہ ریفرنس اس لیے دئے ہیں تاکہ علماء وغیرہ اپنے زوق کے مطابق پڑھنا اور سننا چاہین تو وہ رجوع کر لیں میرے ان مواد کی طرف 
آج کے اس تعارف میں میں صرف 3 پہلو بیان کرون گا ۔
ایک پہلو عوام الناس سے متعلق ہے جو لوگ علم الحدیث سے بلکل بے بہرہ ہیں ان کے ہان ایک ّغلط طریقے سے یہ تاثر پایا جاتا ہے اور یہ تاثر شاید ایسے حلقوں کی طرف سے ان تک پہنچا ہے جو لوگ حدیث نبوی کو حجت نہیں مانتے ۔
یا شکوک وشبہات اس باب میں رکھتے ہیں ۔
ان کی طرف سے غلط خیال پھیلایا جاتا ہے ۔پھر اپنا مطالعہ کتب کا نہیں ہوتا سن سنا کر اپنی رائے قائم کرتے ہیں ۔ان کے زہن میں ایک مغالطہ ا گیا ہے ۔
پہلے حصے میں  میں ان کو address  کرنا چاہتا ہوں تاکہ عوام الناس کا مغالطہ دور ہو وہ یہ مغالطہ ہے 
کہ صحیح بخاری تو حدیث کی پہلی کتاب ہے اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وصال سے 250 سال بعد 
حدیث کی حجیت میں شک و شبہ پیدا کرنے والے اس بات کو یوں put کرتے ہیں کہ جب 250 سال بعد یہ حدیث کی کتاب پہلی مرتبہ مرتب ہوئی ہے تو پہلے 250 سال تو بلکل گیپ ہے اس وقت حدیث کہان تھی؟  اس کے تو کوئی  written record  موجود ہی نہیں تھے ۔وہ تو سینہ بسینہ روایات موجود تھیں اس لئے اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ حدیث نبوی کا زخیرہ سو فیصد درست ہے اور ہر حدیث واقعتا صحیح ہے یعنی آپ کی فرمائی ہوئی بات ہے ۔لوگوں نے درمیان میں غلط باتیں add کر کے حدیث کا عنوان تو نہیں دے دیا ۔اس طرح وہ تدوین حدیث کے متعلق شک و شبہ کا اظہار کرتے ہیں ۔
 دوسرا شبہ جو تھوڑا علم رکھتے ہیں حدیث کے بارے میں یعنی گہرائی کے ساتھ کتب کا مطالعہ نہیں کیا مگر تھوڑی زیادہ سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اس میں مزہبی لوگ بھی ہیں اور ایسے لوگ بھی ہیں جو practically  بہت زیادہ مزہبی نہیں ہیں مگر ان کا ایک شغف ہے ان کا مغالطہ یہ ہے کہ صرف صحیح البخاری ایک ہی کتاب ہے جس میں احادیث صحیحہ ہیں ۔وہ کہتے ہیں جو صحیح بخاری میں ہے اس کو مانیں گے جو اس میں نہیں ہے اس کو نہیں مانیں گے ۔یا زیادہ سے زیادہ اس میں توسیع کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ بخاری اور مسلم ہی دو کتابیں ہیں جن میں صحیح احادیث دستیاب ہیں ۔جو کچھ بخاری اور مسلم میں ہے اس کو قبول کرتے ہیں اور جو بخاری مسلم سے باہر ہے وہ حدیث صحیح نہیں ہے ۔
یہ ایک بہت بڑا مغالطہ ہے جس سے گمراہی پیدا ہوتی ہے ۔گویا اس طرح آپ دین کا 90 یا  95 فیصد حصہ مسترد کر دیتے ہیں ۔
 اس حوالے سے پھر تیسری چیز یہ جو لوگ قدرے زیادہ علم کے حامل ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ اگر صحیح احادیث دیگر کتب میں بھی ہیں تو صحیح بخاری کی کیا اہمیت ہے ۔اس کی انفرادیت کیا ہے،  خاص  significance کیا ہے جو دوسروں میں نہیں ہے یا امتیاز کیا ہے ۔
 سب سے پہلے اس پہلو کو لیتے ہیں کہ کیا صحیح بخاری پہلی کتاب ہے جس میں احادیث نبوی جمع کی گئی ہیں ۔اور اس سے پہلے بلکل خلاء تھا حدیث نبوی کا کوئی تحریری زخیرہ یا مستند مجموعہ درمیان میں نہیں تھا ۔جواب یہ ہے کہ بلکل کوئی خلاء نہیں تھا ۔اور نہ ہی صحیح بخاری حدیث نبوی کو جمع کرنے والی پہلی کتاب ہے اور نہ صحیح حدیث کا پہلا مجموعہ ہے ۔حفظ کے طور پر بھی تحریری شکل میں بھی احادیث موجود تھیں جن سے امام بخاری نے اکتساب فیض کیا ۔
صحیح بخاری جب مرتب ہوئی ہے تو امام بخاری کے اس کام سے پہلے صحابہ کرام سے لیکر امام بخاری کی صحیح بخاری  تک کم و بیش 500 یا اس سے زائد تحریری زخائر مصنفات مؤلفات اور تحریری مجموعے written  شکل میں موجود تھے ۔آقا علیہ السلام سے لیکر امام بخاری تک کبھی کوئی خلا نہیں رہا ۔500 یا اس سے زائد صحائف اور کتب تحریری طور پر موجود تھے ۔57 کے قریب تو صحائف صرف صحابہ کرام کے تھے 
میری اپنی کتاب تدوین السنہ پر علم الحدیث پر وہ کسی وقت آپ کو مل جائے گی ۔ایک حجیت حدیث پر دو جلدوں کی کتاب ہے کم و بیش 12 یا  14 سو صفحات کی ۔تدوین حدیث کی تاریخ پر ایک الگ کتاب ہے اس میں  میں نے ان تمام صحائف کی تفصیلات، ان کے مؤلفین کے نام، ان کے احوال اور کتنی کتنی احادیث تھیں تمام تفصیلات مہیا کر دی ہیں وہ پورا  250 سال کا  گیپ فل اپ کر دیا ہے ۔
وہ محدثین جنہوں نے مخطوطات پر تحقیق کی اور سب کچھ لکھا ہے میں نے ان کی ہزار ہا کتب کو کھنگال کر یہ  کتاب مرتب کر دی ہے ۔ 57 کے قریب تو صحائف یعنی مجموعات حدیث خود صحابہ کرام کے اپنے لکھے ہوئے تھے ۔اور وہ  available  تھے ۔اس میں کوئی صحیح اور ضعیف کے امتیاز کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔انہوں نے تابعین کو  dictate  کروائے تھے ۔
اسی طرح اکابر تابعین کے مخطوطات 132 سے زائد ہے ۔پھر صغار تابعین اور اتباع التابعین کے 235 زخائر دستاب ہو سکے ہیں ۔
یہ 424 یعنی سوا جار سو تحریری زخائر حدیث پاک کے بنتے ہیں ۔پھر ان کے بعد وہ ہستیاں آتی ہیں جو امام بخاری سے پہلے ہیں ۔ان کی بھی سینکڑوں کتب احادیث میں موجود تھیں ۔یہ سوا چار سو مجموعے صرف صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے بیان کیے ہیں ۔
پھر ان کے بعد امام بخاری سے پہلے ایک دو طبقے اور بھی ہیں ۔اس دور میں بڑی اکابر شخصیتوں نے احادیث نبوی کو جمع کیا تھا ۔
اس دور کے تمام محدثین ان سے زبانی احادیث بھی لیتے اور ان مخطوطات سے استفاده کرتے۔وہ مسودے آگے نقل در نقل بھی ہوتے رہتے تو کوئی خلا نہیں تھا عہد رسالت مآب سے صحیح بخاری کے مدون ہونے تک ۔
یہ سوا چار سو حدیث کے تحریری زخائر بنتے ہیں ۔
پھر اس کے بعد وہ شخصیتیں اور وہ ہستیاں آتی ہیں جو اتباع و تابعین کے بعد اور امام بخاری سے پہلے ان کی بھی سینکڑوں کتب اور مجموعات احادیث میں موجود تھے ۔
یہ سوا چار سو مجموعے تین نسلوں صحابہ کرام، تابعین اور تبع تابعین کے ہیں ۔
اس عرصے میں بڑی اکابر شخصیتیں تھیں جنہوں نے احادیث نبوی کو جمع کیا تھا ۔یہ ایک یا دو طبقے اور بھی ہیں جنہوں نے احادیث نبوی کو جمع کیا تھا 
مثلآ امام ترمذی بیان کرتے ہیں اپنی کتاب العلم الصغیر 
اصول الحدیث میں بہت عظیم الشان کتاب  اور رسالہ ہے اس میں بیان کرتے ہیں ۔امام ترمذی امام بخاری کے ہم زمانہ ہیں ۔امام بخاری کے شاگرد اور استاد بھائی بھی ہیں ۔وہ فرماتے ہیں کہ ہمارے زمانوں سے بہت پہلے جن شخصیتوں نے باقاعدہ کتابی شکل میں احادیث کے مجموعے مرتب کیے اور جمع کیے اور جن کو باقاعدہ تصنیف کا نام دیا جا سکتا ہے ۔ان میں ہشام بن حسان تھے، عبدالملک بن عبدالعزیز بن جریج تھے ۔سعید بن ابی عریبہ تھے ۔امام مالک بن انس تھے ۔امام حماد بن سلمہ تھے ۔امام عبداللہ بن مبارک تھے۔امام یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ تھے امام وقیع بن جراح تھے، امام عبدالرحمن بن مہدی تھے،  اور امام سفیان ثوری تھے ۔اور امام علی بن مدینی تھے ۔ان کا امام ترمذی نے بیان کیا ک ہمارے زمانے سے پہلے اساتذہ اور گرینڈ اساتذہ ان زمانوں میں جنہوں نے باقاعدہ کتابی صورت میں جن میں چیپٹرز، سیکشن کے طور پر کتابوں کو مرتب کر لیا تھا، دنیائے اسلام کے ان میں نمایاں نام یہ تھے ۔
امام سفیان ثوری نے حدیث کی ایک جامع لکھی تھی جس کی باقاعدہ ابواب بندی کی گئی تھی،  اور امام علی بن المدینی وہ بھی امام بخاری کے شیخ  ہیں جن سے امام بخاری نے احادیث لی ہیں ۔احادیث کی 200 چھوٹی بڑی کتابیں انہوں نے مرتب کی تھیں،  یہ سارا زخیرہ احادیث نبوی کا محفوظ تھا،  
خطیب بغدادی نے الجامع اخلاق الروای الاآداب    نے بیان کیا ہے 
اس طرح امام ابو طالب المکی نے قوت القلوب  کے ایک  باب میں بیان کیا ہے کہ وہ ہستیاں جنہوں نے اسلام کے ابتدائی زمانے میں کتب مرتب کیں ان کو سٹی وائز لکھا ہے، ان امام ابن جریب کہتے ہیں انہوں نے حدیث کو مرتب کر کے پوری کتاب تصنیف کی جسے انہوں نے امام مجاہد بن عطا عبداللہ بن عباس کے شاگردوں سے لیا ہے وہ مکہ مکرمہ میں سب سے پہلے مصنف ہوئے 
پھر یمن میں سب سے پہلے جنہوں نے عظیم الشان زخیرہ احادیث مرتب کیا وہ امام احمر بن راشد السنانی ہیں ۔جنہوں نے سنن نبوی اور احادیث نبوی کو ابواب بندی کے ساتھ مرتب کیا تھا ۔
پھر مدینہ منورہ میں امام مالک بن انس جنہوں نے الموطا لکھی الموطا تو دستیاب ہے اور ساری دنیا میں پڑھی پڑھائی جاتی ہے ۔
امام مالک امام بخاری کے پڑدادا استاد ہو جاتے ہیں ۔
اسی طرح امام ابن عینہ نے 
الجوامع کتاب لکھی سنن اور احادیث نبوی میں اس کی ابوایوب بندی کی تھی 
اس طرح امام سفیان ثوری نے اپنی جامع سفیان ثوری لکھی اور وہ کہتے جامع الکبیر تھی وہ حدیث اور فقہہ کی بڑی جامع کتاب تھی ۔انہوں نے بھی سب سے پہلے تصنیف کی،  ان لوگوں میں سے ایک یہ ہیں  
پھر اس کے بعد آئمہ بیان کرتے ہیں  کہ امام بخاری اور امام مسلم  کے زمانوں سے بہت پہلے جو کتابیں لکھی گئیں ان کے باقاعدہ ٹائٹل تھے ۔کچھ کتابیں موطا کے نام سے لکھی جاتیں، کچھ کتابیں حدیث کے مجموعے مسند کے نام پر کچھ  مصنف  کے نام پر کچھ جامع کے نام پر  جیسے امام بخاری کی جامع الصحیح ہے ۔
کچھ نام سنن رکھا جاتا تھا  بعض کتابیں مخصوص موضوعات پر لکھی جاتیں تو ان کو وہ نام دے دیا جاتا ۔جہاد سیر مغازی ، الزہد، پر لکھیں اس کا وہی ٹائٹل ہو جاتا تھا ۔
یہ وہ کتابیں تھیں جو امام بخاری کی پیدائش سے پہلے یہ کثرت کے ساتھ لکھی گئیں اور اسلامی ملک کے ہر ملک میں آئمہ محدثین کے ہاں ان کے زخائر موجود تھے
میں چند کتابیں ریفر کرتا ہوں جو آج بھی پبلشڈ فارم میں available  ہیں ۔
جن کے بارے میں بعض لوگ vacume سمجھتے ہیں کوئی خلا موجود نہیں تھا ۔
سب سے صحیفہ حمام بن منبع ہے  حمام بن منبع سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے شاگرد ہیں ان کی مرویات کا مجموعہ ہے ان کی اپنی وفات 131 ہجری میں ہوئی ۔پہلی صدی ہجری کے یہ فرد ہیں،  پھر ان کے شاگرد معمر بن راشد نے نقل کر کے مرتب کیا ہے ۔ان کو امام عبدالرزاق نے اپنی کتب میں بھی محفوظ کیا اور صحیفہ حمام بن منبع بذات خود اپنی حیثیت میں ایک الگ مطبوعہ شکل میں available  ہے ۔خود میرے پاس موجود ہے 138 احادیث اس میں تھیں 
یہ حدیث پہلے صحیح بخاری میں بھی روایت ہو چکی تھیں،  مصنف عبدالرزاق میں بھی روایت ہو چکی تھیں ۔امام معمر بن راشد کی جامع میں بھی روایت ہو چکی تھیں ۔اور دیگر کتب حدیث امام بخاری سے پہلے بھی الگ الگ تھوڑی تھوڑی روایت ہو چکی تھیں ۔کسی ایک حدیث کے ایک لفظ کا بھی فرق نہیں ہے،  یہ اللہ رب العزت کا وہ نظام ہے جو اس نے اپنی وحی کی حفاظت کی زمہ داری لی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے قران مجید میں ارشاد فرمایا کہ اپنا زکر اپنا دین ہم نے نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کرنے والے ہیں ۔اس حفاظت میں جہاں اس نے قرآن مجید کی حفاظت کی ہے وہاں اس نے سنت رسول اور حدیث نبوی جو وحی الہٰی ہے فقط یه وحی خفی ہے اور قرآن مجید کی وحی کو وحی جلی کہتے ہیں اس کا معنی اور الفاظ بھی وحی ہیں اور حدیث نبوی کے الفاظ نبوی ہیں اور معنی اللہ رب العزت کا نازل کردہ ہے ۔
قرآن مجید کی سورہ النجم میں کہا ہے اور جو لفظ بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زبان سے نکالتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی وحی ہے جو وہ اپنے محبوب کی طرف کرتا ہے 
قرآن اور سنت دونوں وحی الہی ہیں، 
اللہ تعالیٰ نے جس طرح قرآن مجید کی حفاظت کی اسی طرح حدیث نبوی کی بھی حفاظت کی ہے 
ایک اور جامع معمر بن راشد ہے ان کی وفات 153 ہجری میں ہوئی، امام معمر بن راشد کی حدیث کی کتاب ہے اس کے اندر 1613 احادیث ہیں، ان کی وفات امام بخاری کی ولادت سے  40 سال پہلے ہو گئی تھی ۔
امام بخاری کی ولادت 194 ہجری میں ہوئی اور ان کی وفات 153 ہجری میں ہوئی،  
امام بخاری کی صحیح بخاری کو اگر لیں تمام  repetition  تکرار ختم کر دیں تو اس کا ٹوٹل عدد 2600 سے زائد بنتا ہے، 
آپ کو راونڈ فگر میں 2700 کہہ لیں،  
اس کی گفتگو ہم تیسرے نکتے میں کریں گے، 
ایک کتاب جامع معمر بن راشد امام بخاری کی پیدائش سے 60 ، 70 سال پہلے لکھی گئی 75 سال پہلے لکھی گئی اس کا عدد 1613 ہے،  
اس کے بعد موطا امام مالک ہے موطا امام مالک کے مصنف امام مالک وہ بھی امام بخاری کی ولادت سے  15 سال پہلے وفات پا چکے تھے،  اور زمانہ یعنی آپ کی پیدائش 94 یا95 ہجری  ہے۔
امام بخاری کی ولادت سے 100 سال پہلے آپ کی پیدائش ہوئی ہے، ان کی کتاب میں 1891 یعنی 2 ہزار کے قریب احادیث موطا امام مالک میں ہیں، بعض نسخوں میں 1942 ہیں  ، 
پھر امام یوسف القاضی جو امام ابو حنیفہ کے بڑے شاگرد ہیں۔ان کی وفات 182 ہجری میں ہوئی ہے، 
ان کی وفات بھی امام بخاری کی پیدائش سے 12 سال پہلے ہوئی،  یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر امام بخاری کی اساتذہ کی اگر ترتیب بنائیں تو یہ دادا اساتذہ میں آتے ہیں ۔بعد از شیوخ میں آتے ہیں ۔
امام ابو یوسف نے اپنی کتاب  کتاب الاآسار مرتب کی اس کے اندر  1067 احادیث تھیں،  اور ان میں اکثر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرویات تھیں،  آج مطبوعہ شکل میں موجود ہے، یہ وہ تمام کتابیں جو ہمارے پاس موجود ہیں ۔
پھر  اس کے بعد مسند ابو داؤد الطیالسی یہ بھی امام بخاری سے قبل تھے،  
امام بخاری کے شیوخ میں آتے ہیں،  ان کی پیدائش 133 ہجری کی ہے یہ امام بخاری کی پیدائش سے 60 سال پہلے ان کا زمانہ ہے اور 204 میں وفات ہو گئی ہے ۔جبکہ امام بخاری نے حدیث پاک collect کرنے کا سفر بھی ابھی شروع نہیں کیا تھا ۔انہوں نے شیوخ کے پاس سماع کا عمل  205 ہجری میں کیا ۔
ان کی کتاب مسند چار جلدوں میں چھپی ہوئی ہے اور اس کے اندر احادیث 2890 ہیں  یہ احادیث مسند ابی داؤد بن طیالسی میں ہیں،  یہ کتابیں میری لائبریری میں موجود ہیں اور علماء کرام جو علم الحدیث میں شغف رکھتے ہیں ان کے پاس بھی موجود ہوں گیں اور تمام بڑی لائبریریز میں موجود ہیں 
اپھر مسند امام ابی الشافعی 
ان کی وفات بھی 204 میں ہوئی،  جبکہ امام بخاری اس وقت عمر 10 سال تھی،  امام شافعی نے   جو احادیث جمع کی تھیں انہوں نے اس کو اپنی کتاب میں مرتب کر دیا اس کا عدد 1811 ہے  ۔
پھر امام عبدالرزاق السنانی ہیں  انہوں نے اپنی کتاب مصنف تیار کی معروف کتاب ہے، ان کی وفات بھی 211 ہجری میں ہوئی،  
امام بخاری کی عمر 16 سال تھی جب امام عبدالرزاق کی وفات ہو گئی ۔یہ بھی امام بخاری کے دادا شیوخ میں سے ہیں،  انہوں نے جو کتاب مرتب کی وہ available  ہے  اس کے اندر 19418 احادیث ہیں ۔یہ صرف ایک امام کی تصنیف شده کتاب مصنف ہے جو امام عبدالرزاق السنانی کی ہے ۔
امام بخاری ابھی بچپن میں تھے جب ان کی وفات ہو گئی 
پھر امام بخاری کے ایک شیخ ہیں الحمیدی، ان کا مسند ہے  مسند الحمیدی 
ان کی وفات 219 میں ہوئی 
امام بخاری نے اپنی جوانی کی عمر میں ان سے پڑھا اور کافی وقت ان کی خدمت میں گزارا جب مکہ مکرمہ میں گئے ہیں تو ابتدا جن شیوخ سے کی ان میں سے ایک ہیں ۔
ان کا اپنا مسند ہے  امام بخاری نے کثرت کے ساتھ ان سے اکتساب فیض کیا ہے ۔
سب سے پہلی حدیث جو صحیح بخاری میں لائے ہیں وہ بھی امام الحمیدی کی روایت ہے،  ان کے مسند میں 1337 احادیث ہیں ۔دو ا جب اجزاء میں چھپا ہوا ہے 
امام بخاری کے شیخ ہیں ان کا اپنا مسند ان سے پہلے موجود تھا،  جن کی کثیر مدت تک ان کی ملازمت میں رہے اور اکتساب فیض کیا 
پھر ایک اور کتاب مصنف ابن ابی شیبہ،  امام ابن ابی شیبہ یہ امام مسلم  کے شیخ ہیں امام بخاری کے شیوخ اور اساتذہ کے مرتبے میں ہیں ۔ان کی وفات 235 ہجری میں ہوئی ۔انہوں نے بھی کتاب تصنیف کی اس کا نام ہے المصنف ۔
امام بخاری ابھی صحیح بخاری لکھ رہے تھے  تکمیل کے قریب تھے امام ابن ابی شیبہ کی اس عمر میں وفات  ہو چکی تھی ۔ان کی کتاب میں 37943 احادیث تھیں ۔
یہ کتاب خود میری اپنی لائبریری میں بھی ہے 
پھر مسند اسحاق بن  ان کی وفات 238 ہجری میں ہوئی 
ان کی کتاب میں حدیث کا عدد 2425 ہے یہ بھی امام بخاری کے اساتذہ اور شیوخ میں سے ہیں 
پھر امام بخاری کے شیخ جن کے پاس 8 مرتبہ بغداد شریف میں جا کر رہے اور اکتساب فیض کیا وہ امام احمد بن حنبل ہیں ان کی وفات 241 ہجری میں ہوئی ۔
امام احمد بن حنبل نے خود حدیث کی کتاب تیار کی 
سب سے زیادہ جو ایک فرد کی خدمت میں امام بخاری رہے اور اکتساب فیض کیا وہ امام احمد بن حنبل ہیں۔
ان کی کتاب مسند أحمد بن حنبل ہے،  اس کا عدد 30 ہزار احادیث کا ہے ۔ یہ وہ مطبوعہ کتابیں ہیں جو آج بھی مطبوعہ ہیں ۔
امام بخاری کے وقت سے پہلے یہ مخطوطات موجود تھے،  اصل عدد 27943 ہے 
اور کچھ نسخوں کے مطابق 30 ہزار بھی ہے ۔
اگر ان مطبوعہ احادیث کا عدد شمار کریں تو وہ 1 لاکھ 103 بنتا ہے ۔

1 لاکھ سے زائد تو وہ احادیث ہیں جو امام بخاری سے بھی پہلے کتابی شکل میں دستیاب تھیں اور یہ کتابیں امام بخاری کے پاس موجود تھیں جن سے امام بخاری احادیث منتخب کر رہے تھے،  
ان میں ایک استاد امام علی المدینی کی حدیث میں 204 کتابیں تھیں ۔ 
امام خطیب البغدادی بیان کرتے ہیں لے اخلاق الراوی میں اور حافظ ابن حجر عسقلانی بیان کرتے ہیں تہزیب التہزیب میں کہ 204 کتابیں صرف احادیث میں تھیں ۔یہ امام بخاری کے شیخ  علی بن المدینی تھے، 
امام بخاری ایک مقام پر فرماتے ہیں کہ میری عمر جب اس وقت 16 سال تھی 
تو میں نے امام عبداللہ بن المبارک،  اور امام وقیع بن الجراح ان کی تمام کتابیں اور تصنیفات میں نے حفظ کر لی تھیں ۔
آپ جو کتاب اٹھا کر دیکھیں امام بخاری کے سیرت نگار 
امام حازمی سے لے کے ابن الصلاح سے لیکر حافظ ابن حجر عسقلانی ہوں امام عراقی ہوں یا امام سیوطی ہوں یعنی کسی کو اٹھا لیں 
یہ متفق علیہ بات ہے اس میں کوئی دوسری رائے نہیں ہے کہ امام بخاری کی سیرت پر لکھی گئی ہر کتاب میں درج ہے  آپ فرماتے ہیں کہ میری عمر ابھی 16 تھی  اس عمر میں بخارا میں اساتذہ کے پاس پڑھتے تھے 
اور امام ابو حفص الکبیر کے پاس پڑھتے تھے وہ حنفی امام تھے،  وہ امام ابو حنیفہ کے شاگرد امام حسن شیعبانی کے شاگرد تھے 
امام ابو حنیفہ کے دادا شاگرد تھے اور فقہ حنفی کے امام تھے، اور امام عبداللہ بن المبارک اور امام وقیع بن الجراح دونوں فقہہ میں امام ابو حنیفہ کے فالورز تھے یہ دونوں جلیل القدر آئمہ حدیث فقہ میں حنفی المزہب تھے 
امام بخاری فرماتے ہیں ان کی ہر کتاب میں موجود ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے فرماتے ہیں کہ میری عمر 16 سال تھی جب میں نے ان دونوں اماموں کی تمام کتابیں حفظ کر لیں تھیں ۔
کچھ ان کو اپنے والد گرامی سے ورثہ میں ملی تھیں اور کچھ اپنے استاد سے ملیں 
اور کتابیں سمرقند بخارا میں  available  تھیں ۔
ان میں کتاب زہد والرقائق تھی،  وہ کتاب چھپی ہوئی میرے پاس بھی موجود ہے ۔
امام بخاری نے یہ زبانی یاد کر لی تھی، امام عبداللہ بن المبارک کی ایک مسند تھی احادیث کا بڑا مجموعہ تھا وہ بھی یاد تھا کتاب الجہاد تھی وہ بھی یاد تھی ۔کتاب البر والصلہ،  بعض کتب میں آیا ہے کہ 21،000 احادیث بھی تھیں اس میں احکام بھی تھے مسائل بھی تھے آداب زہدالرقائق،  21 ہزار کے قریب احادیث تھیں امام عبداللہ بن المبارک کی کتب میں امام بخاری نے یاد کر لی تھیں جوانی کے عالم میں 
اپ اس سے یہ اندازہ کر لیں کہ کتنا بڑا تحریری زخیرہ امام بخاری سے قبل حدیث نبوی کا موجود تھا ۔کوئی خلا نہیں تھا 
رہ گئے امام وقیق بن الجراح ان کی کتب بھی انہوں نے 16 برس کی عمر میں حفظ کر لیں تھیں ۔ان کی کتاب تفسیر میں بھی تھی ۔زہد القائق میں بھی تھیں،  3 جلدوں میں ضخیم کتاب ہے،  وہ بھی میرے پاس موجود ہے اور لائبریریز میں بھی ہوں گی ۔
کتاب السنن بھی حدیث کی کتاب ہے، فضائل صحابہ پر بھی ہے ۔
حدیث میں ایک مسند اور ایک مصنف بھی ہے اور المعرفہ تتاریخ بھی ہے 
امام وقیع بن احمش کی مرویات کا بھی مجموعہ ہے اس طرح تمام کتب احادیث میں تھیں ۔یہ 16 برس کی عمر میں امام بخاری کا اپنا بیان ہے اس سے آپ just  اندازہ یہ کر لیں کہ کتنا بڑا تحریری زخیرہ تھا کتابوں کی شکل میں جو موجود تھا  امام بخاری کے زمانے سے پہلے اور یہ چلا آ رہا تھا صحابہ کرام کے دور سے لیکر امام بخاری کے زمانے تک 
لہذا آج کی نشست میں ایک نکتے کو مکمل کیا کہ کوئی خلا امام بخاری سے قبل نہیں تھا ۔یہ معلومات نہ ہونے کی وجہ سے غلط فہمی پھیلائی جاتی ہے جس سے گمراہی پھیلتی ہے 
احادیث نبوی قرآن مجید کی طرح محفوظ و مامون تھیں ۔وہ زخائر موجود تھے اور وہ آج ہم تک بھی پہنچے ۔
الحمدللہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین مقدسہ کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ لکھنے کی توفیق عطا فرمائی جس پر  میں اپنے اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہے ۔
طالب دعا 
حفیظ اللّه جاوید

QUESTIONS AND ANSWERS FOR LECTURE NO 1


No comments:

Post a Comment